اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، العربیہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں علاقائی سکیورٹی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز سیاسی اور سفارتی مشاورت کا اہم مرکز بن گئی ہے، جبکہ بحری جہازوں کی محفوظ اور معمول کی آمدورفت کی بحالی کے لیے مشترکہ طریقۂ کار پر بات چیت جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایک اعلیٰ ذریعے نے العربیہ کو بتایا ہے کہ آئندہ چند روز میں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک عارضی معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ 60 روزہ عبوری منصوبے پر مشتمل ہوگا، جس کا مقصد تکنیکی مذاکرات کا آغاز اور بحری آمدورفت کے انتظام کے لیے مستقل لائحۂ عمل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مجوزہ معاہدے کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے بحری جہاز ایران کے ساحل سے قریب واقع بحری راستے سے گزریں گے، جبکہ خلیج فارس سے باہر جانے والے جہاز عمان کے ساحل کے قریب واقع راستہ اختیار کریں گے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد کے دوران خطے کے بعض ممالک سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر تکنیکی اقدامات میں حصہ لے سکتے ہیں۔
العربیہ نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطے بدستور جاری ہیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق یہ عارضی معاہدہ کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان تکنیکی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔
ادھر سعودی ٹی وی چینل الحدث نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کو ابھی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی حتمی منظوری حاصل نہیں ہوئی، اس لیے منظوری سے قبل اسے حتمی معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق، باضابطہ اعلان بھی ایران میں فیصلہ سازی کا عمل مکمل ہونے سے مشروط ہے۔
یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اس سے قبل تہران اور مسقط آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی سے متعلق کئی ادوار کے مذاکرات کی تصدیق کر چکے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے اب تک سعودی ذرائع ابلاغ کی جانب سے معاہدے کی تفصیلات یا اس کے ممکنہ اعلان سے متعلق دعوؤں کی توثیق نہیں کی ہے۔
آپ کا تبصرہ